بھٹکل:30/جولائی (ایس اؤنیوز)جرائم کا خاتمہ اور امن کا قیام ایک طرفہ نہیں ہوسکتا، اس کے لئے دونوں طرف سے آپسی تال میل اور تعاون ہونا چاہئے، وہیں جرم کرنے والوں کی جانکاری ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرنے سے شہر کا نام بدنام ہوتاہے، اس سلسلے میں ہمارے ضلع کے نوجوان ایس پی صاحب توجہ دے کر حالیہ معاملات کی دوبارہ انکوائری کرائیں اور ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں تو ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ شہر امن وامان کا گہوارا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے کیا۔
وہ یہاں پولس محکمہ کی طرف سے اربن بینک ہال میں منعقد عوام دوست پولس پروگرا م میں تنظیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ تنظیم کےنائب صدر نے متعلقہ میٹنگ میں صرف تنظیم کی نمائندگی کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے شہر بھٹکل میں تمام طبقات مل جل کررہتے ہیں، یہاں امن ہمیشہ سے قائم ہے کبھی کبھی ہونے والے چھوٹےموٹے واقعات پر پولس کی تعیناتی پر افسوس ہوتاہے کہ بے کار میں سرکارکی بڑی رقم یوں ہی خرچ ہورہی ہے۔ عنایت اللہ حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایک واقعہ پر ایک ایک جگہ پولس بسوں کو کھڑا کیا جاتاہے، ریزروپولس، سنٹر پولس ، سی آر پی ایف کتنا روپیہ خرچ ہوتاہے، انہوں نے اس موقع پر ضلع ایس پی کی توجہ چاہتے ہوئے کہاکہ ہر دو تین ماہ پر بنگلورو کی میٹنگ میں آپ شرکت کے لئے جاتےہیں ،آپ جانتے ہیں کہ وہاں بھٹکل کو لے کر اخراجات کی بڑی لسٹ ہوتی ہوگی، مندر میں گوشت پھینکا گیا پولس ،کہیں اور کسی کی گردن پھینکی گئی سی آر پی ایف ، ریزرو پولس دستوں کی تعیناتی ،5-4 معاملات ہوئے تو چار پانچ پولس کی بسیں ،کیا ہے یہ، کتنا خرچ آتاہے؟ کیا یہ خرچ محکمہ کے لئے ، سرکار کے لئے بوجھ نہیں ہے ، ایسا کیوں ہے؟جب کہ سچائی یہ ہے کہ شہر کے تمام عوام کا ماننا ہے کہ بھٹکل میں امن وامان قائم ہے، لیکن بنگلورو کی آفیس میں ہم بدنام ہیں، میں اس موقع پر ایس پی صاحب سے درخواست کرتاہوں کہ سرکارکی رقم بچائیں، ایک مرتبہ ملزم کو گرفتار کرلیں پھر دوبارہ ایسی کوئی واردات یہاں نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ واقعات کی جانچ کے لئے ایک ڈی وائی ایس پی کو نامزد کیاگیا وہ ہمارے جیسے 4-2لوگوں سے ملاقات کرکے چلے گئے ، سر،کیا یہ انکوائری ہے؟ سر، آپ کے پولس افسران کو اچھی طرح معلوم ہے ، کون کون کیا کیا ہے ؟ تھیلی کس نے رکھی ہے ، آپ ایک نوجوان ایماندار آفیسر ہیں آپ توجہ دے کر ان معاملات کی فائل اوپن کریں، وہ کسی بھی طبقے سے تعلق کیوں رکھتاہو، میں یقین دلاتاہوں کہ ان کا ہم سماجی بائیکاٹ کریں گے؟۔یہاں سوال کسی طبقے کا نہیں ، بلکہ بھٹکل شہر کا سوال ہے۔اس طرح نفرت پھیلانے کے جو کام کرتے ہیں انہیں گرفتار کرکے جیل میں بند کرنا چاہئے۔
اس موقع پر عنایت اللہ نے کہاکہ محکمہ پولس کی طرف سے بڑے پیمانے پر عوام دوست پولس کے نام پر عوامی رابطہ میٹنگ کا انعقاد کرنےپر بڑی خوشی ومسرت ہورہی ہے ہم ہمیشہ پولس محکمہ کے ساتھ ہیں، جرائم کے سدباب کے لئے محکمہ کے پاس اتنا عملہ نہیں جتنی ضرورت ہے جب کہ آبادی میں روز بروز اضافہ ہورہاہے، انگریزوں زمانےمیں پولس محکمہ میں جتنا عملہ تھا اتنا ہی ہے ، لیکن آبادی کہیں سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم پولس کا تعاون کریں۔ صرف پولس پر انحصار کریں گے تو کام نہیں ہوگا، منشیات، گانجہ ، چوری جیسے تمام جرائم کے سلسلے میں پولس کا بھرپور تعاون دینے کےلئے مجلس اصلاح وتنظیم کی طرف سے 100والنٹرس کانام پولس محکمہ کو دیا گیا ہے۔ آپ ہمارے لوگوں کو لے کر جرائم کو ختم کرنے کے لئے کام کریں، تنظیم چاہتی ہی یہ ہے کہ ہمارا شہر امن و امان کا گہوارہ بنے ، یہاں کسی طرح کے کوئی جرم نہ ہوں۔ تنظیم کی طرف سے بھلائی کے لئے جتنا ہوسکتا ہے اس سے کہیں زیادہ مدد دی جائے گی ، اسی طرح دیگر ادارے اور تنظمیں بھی تعاون کریں گے تو بیٹ سسٹم مضبوط ہوگا۔ خود پولس محکمہ بھی اس کی گوائی دیتاہے کہ بھٹکل میں کتنا ہی بھیانک یا معمولی حادثہ ہو ہر ایک فوری طورپر مدد کرتاہے ، ہر کام چھوڑ کر اس کی جان بچانے کےلئے آگے آتاہے، پولس پہنچنے سے پہلے حادثے کے متاثرین کو اٹھانا، اسپتال پہنچانا اور زائد علا ج ضروری ہونے پر انہیں روانہ کرنےکا انتظام کرنا بھٹکل عوام کی خصوصیات ہیں۔
عنایت اللہ نے کہاکہ عوام ہر طرح کا ساتھ دینے کے لئے ہیں اسی طرح پولس کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی عوام کا تعاون کریں۔ ایک تجربہ ایسا بھی ہوا کہ گانجہ فروخت کا معاملہ لے کر پولس تھانہ پہنچنے کے بعد شہری تھانہ والے دیہی تھانہ کا کیس کہتے ہیں دیہی تھانہ والے شہری تھانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور تحصیلدار وغیرہ افسران کی آمد کے چکر میں گانجہ کی اچھی خاصی مقدار ادھر سے ادھر ہوجاتی ہے۔ اس لئے محکمہ بھی اس معاملے میں بیدار ہو کر عوام کا ساتھ دے تو اور بہتر طریقے سے کام کرسکتےہیں۔ ویسے اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھٹکل سے شرالی ،مرڈیشور اور ہوناور کی طرف گانجہ کی سپلائی ہورہی ہے، نوجوان نسل برباد ہورہی ہے پورے سماج کی ذمہ اری ہے کہ نوجوانوں کی حفاظت ہو۔پولس کے تعلق سے عوام میں جو خوف تھا وہ آہستہ آہستہ دور ہوتا جارہاہے ، البتہ ہمیں کسی بھی جرم کی اطلاع ملنے پر راست چھاپہ ماری یا حملہ کرنا ٹھیک نہیں ہے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ بلکہ پولس محکمہ کے کسی آفیسر کے ساتھ ہی ہمیں وہاں پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے پولس محکمہ کی طرف سے بیٹ سسٹم کے ذریعے عوام دوستی کی طرف جو ہاتھ بڑھایا ہےایک بہتر قدم ہے ، اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ عوام کے درمیان خوف کا ماحول دور ہوگا اور آپسی تعاون کی فضا بنے گی ۔عنایت اللہ آخر کہا کہ میں دوبارہ ایس پی صاحب کو اعتماد دلا تا ہوں کہ بہتر اور امن کے ماحول کو برقرار رکھنے اور جرم کے خاتمے کے لئے تنظیم ہمیشہ تیار ہے ، وہ کسی بھی وقت ہمیں صرف ایک فون کریں بس ،ہم آپ کی مدد کے لئے حاضر ہونگے۔
